ووٹ بنوانا مت بھولئے قومی فریضہ ہے – Don’t forget to Add your Vote – by Shahbano Mir
شاہ بانو میر ووٹ بنوانا مت بھولئے قومی فریضہ ہے ـ پاکستان میں ہر وہ ریکارڈ بنا دیاگیا، جس کو سن کر اور پڑھ کر دنیا انگشتِ بدنداں رہ جاتی ہے ـ جیسے اسی ملک میں بے نظیر شہید کی شہادت کے بعد ان کی پارٹی کو ہمدردانہ ووٹ ملنا تھا، اور اس پارٹی کی کامیابی یقینی تھی ـ اس مفلس قلاش قوم کو امیر حکمرانوں سے کچھ ملے یا نہ ملے ـ لیکن یہ قوم اتنی سخی ہے کہ جھولی بھر بھر دعائیں دینے اور ہمدردی دینے میں ان کا کوئی ثانی نہیں ہے ـ باوجود اس کے کہ پیپلز پارٹی کو اپنی کامیابی کا یقین تھا، پھر بھی اس الیکشن میں تین کروڑ ستاسی لاکھ ستر ہزار بوگس ووٹ ڈالے گئے ـ ذرا تصور کیجیے کہ اس پارٹی کے وارثوں کو باوجود بے نظیر کے قیمتی لہو کی قیمت کا اندازہ تھا، لیکن شائد دل میں کہیں اپنی اصلیت کا خوف بھی تھا اسی لیے تو ان الیکشن میں بھی اتنی کثیر تعداد میں جعلی ووٹوں کا بھگتایا گیا ـ تاریخ جب دھارا بدلتی ہے ناممکنات کو ممکنات بنانے میں قدرت کی رضا شامل ہوتی ہےـ تو ایک رُخ ایک سِمت متعین خود بخود ہوتی چلی جاتی ہےـ بے شک برسرِ اقتدار حاکم جتنا مرضی اپنا اثرورسوخ استعمال کر لے ـ مگر وہ نہ تو ایک تیز و تند سیلابی ریلے کی صورت بہتے ہوئے تیز بہاؤ میں ہونے والے پے درپے بڑے واقعات کو روک سکتا ہے اور نہ ہی وہ سوچ اور تبدیلی کی لہر کا رخ موڑ سکتا ہے ـ ایسا ہی ایک تاریخی موڑ ہم قیام پاکستان کے وقت دیکھتے ہیں جہاں نا ممکن پاکستان صرف اللہ کی رضا اور قائد کے ساتھ سب کے مخلصانہ ساتھ نے ممکن بنا دیاـ اُس وقت سامنے انگریزوں کا عالیشان اور بارعب اندازِ حکمرانی تھا ـ اُن سے بھی نیچے دیکھیں تو ہندو بنئے کا راج لیکن پھر دنیا نے دیکھا کہ تبدیلی آتی ہے تو سونامی کی طرح اپنے اندر سب ظالموں کو کو تنکوں سے بھی ہلکا کر کے بے وقعت کرتے ہوئے دورکہیں جا کر پٹخ دیتی ہےـ اور تاریخ میں کامیاب لوگوں کو انکی محنت کا صلہ دیتی ہے ـ پاکستان 1940 کی طرح آج پھرنئے دوراہےکھڑا ہےـ میں نے آپ نے ہم سب نے ہمیشہ ایک ہی تکرار سنی ہے کئی سال پہلے بھی اور آج بھی کہ پاکستان تاریخ کے نازک موڑ پے کھڑا ہے ـ لیکن آج میں اس روایتی جملے کو ختم کر کے ایک نئے اور حوصلہ افزا جملے کا اضافہ کرتی ہوں، کہ” پاکستان تاریخی موڑ” پے کھڑا ہے،جہاں ایک بار پھر سے اسے اپنی شناخت کو حاصل کرنا ہے اور شان سے جھک کر یا مانگ کر نہیں ـ
یہ تمام تفصیلات بتانے کا مقصد اب آپکو اس بات پر قائل کرنے کیلیۓ ہے کہ کیا آپ نہیں چاہیں گے جو مشکل کانٹوں بھری راہگزر تھی وہ تو عمران نے چن لی صرف آپکے اچھے مستقبل کیلیۓ ـ اس انسان کو اپنے لیۓ تو آپ سے کچھ بھی نہیں چاہیۓ، اللہ کا دیا ہوا اس کے پاس بہت کچھ ہے ہاں اگر کچھ نہیں ہے تو ایک اعلیٰ سسٹم سے لیس آزاد جمہوری ملک نہیں ہے ـ ایسا ہی ملک اسکی سوچ ہے جہاں ہرانسان انسان ہو اسکو جینے کا تعلیم کا علاج کا رہائش کا آسائشاتِ زندگی کا مکمل حق ہو ـ یہ سب آپ کیلیۓ وہ چاہتا ہے ـ لیکن یہ سب آپ کو ایسے نہیں ملے گا ـ اس کیلیۓ کچھ محنت کرنی ہو گی ـ محسن پاکستان محترم ڈاکٹر قدیر بھی آپ سے بار بار درخواست کر رہے ہیں کہ اس ملک کو ایک کامیاب بابا کا پاکستان بنائیں ـ لیکن کیسے ؟ آپکو کچھ خرچ نہیں کرنا ہے آپ کو کوئی فنڈ نہیں دینا ہے ـ آپکو بس الیکشن کمیشن کا فیصلہ جو 22 اگست سے 20 ستمبر تک ہے اس کو سنجیدگی سے سمجھتے ہوئے اپنے اچھے مستقبل اچھے سیاسی لیڈرز کولا کر ایک اچھا پاکستان بنانے کیلیۓ اپنے ووٹ کا ذمہ داری سے اندراج کروانا ہے ـ نہ ہم آپ کو تلوار اٹھا کر لڑنے کا مشورہ دیتے ہیں ـ نہ ہنگامہ آرائی کا نہ ہی کشت و خون کا ـ آپ کو بس اپنا سب سے بڑا سب سے عمدہ ہتھیار ووٹ کو ضرور استعمال کرنا ہے، اور یہ اسی صورت ممکن ہو گاـ جب آپ الیکشن کمیشن کی گھر گھر آمد پر اپنے ووٹ کے درست اندراج کروائیں گے ـ خاص طور پے سفیرانِ پاکستان جو باہر رہنے والے پاکستانی حضرات ہیں، ان سے یہ ُپرزور اپیل ہے کہ آپ سب پر اللہ کا خاص کرم ہے اچھے سے اچھا کھاتے ہیں اعلیٰ سے اعلیٰ پوشاک زیبَ تن کرتے ہیں ـ خدارا الیکشن کے تاریخی موقعے پر پاکستان کا رخ ضرور کریں ایک ٹکٹ پر خرچ کرنے والی رقم کو ضائع مت سمجھیں آپ اس ٹکٹ کو خرید کر پہلی بار پاکستان کے اچھے مستقبل اور آنے والی نسلوں کو ایک آزاد خود مختار ذہنی غلامی سے پاک ملک دیں گے جو آپ کا قرض ہے آنیوالی نسل کیلیۓ اور آپ کو یہ چکانا ہے ـ اور اپنے ووٹ کا درست اور با مقصد استعمال کریں واحد یہی راستہ ہےـ جس کو اپنا کر ترقی یافتہ قومیں آج اپنے نااہل حکمرانوں سے جان چھڑاکر پڑہے لکھے ملک سے مخلص لیڈران کو لا کر ملک کی باگ دوڑ ان کو تھما کر اپنے اچھے مستقبل کیلیۓ سوچ سکتے ہیں ـ ہمارا اچھا مستقبل خود ہمارے اپنے ہاتھ میں ہے صرف ووٹ کے ذریعے ذرا اس وقت دیکھئے ملک کا صدر متنازعہ، ملک کا وزیراعظم متنازعہ ،ملک کا وزیر داخلہ متنازعہ، ملک کی وزیر خارجہ اتنے گھمبیر اور خوفناک ماحول میں ایک کٹھ پُتلی ـ اور تاریخ میں پہلی بار کرپٹ حاکموں کو دیکھتے ہوئے وزراتِ مذہبی امور نے بھی دنیا کو بتا دیا کہ کہ اس ملک میں کرپشن لوٹ مار سے اللہ کا گھر حج جیسا عمل بھی پاک نہی ہے ـ ملک کی وزراتِ اطلاعات و نشریات ایسے دور میں جب ملک حالتِ جنگ میں ہے، ایک خاتون کو تھما کر گویا خود کو کسی بھی دھماکے یا گولی سے محفوظ کر لیا گیا ہے ـ کیا یہ مندرجہ بالا تفصیلات کسی مضبوط کسی سیاسی جمہوری حکومت کا ڈھانچہ لگ رہی ہے ؟ اسی بے ڈھب شخصی ڈھانچےکوکسی معتبر اور پڑہی لکھی ذہین اور ملک سے محبت کرنے والی قیادت کو سونپنا اس وقت بہت ضروری ہے ـ ووٹ کا درست اندراج پاکستان کے اس تاریخی موڑ پے سب سے حساس اور سب سے نازک مقام ہے، درست ووٹوں کا اندراج اس ملک کی قسمت بدل دے گا تو سوچتے کیا ہیں؟ ووٹ کے اندارج کیلئے ضروری تیاری کر کے رکھئے ـ الیکشن کمیشن کا عملہ کسی بھی وقت گھر گھر جاتے ہوئےآپ کےگھر پر دستک دے سکتا ہے، ایک محفوظ شاندار مستقبل کی دستک دیر نہ کیجیۓ گا ـ کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ اگرنہی بنوایا، تو تھوڑی سی محنت کر کے اسکو بنوا لیں ، کیونکہ ایک آزاد جمہوری مستقبل آپ کے دروازے پر عنقریب دستک دینا چاہتا ہے ـ اسکو خوش آمدید کہیں کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ کے ووٹ کی طاقت کیا ہے ؟ ووٹ ایک ایسی طاقت ہے جس سے آپ پر مستقبل میں اچھے انسانوں کے چناؤ کی صورت ملک میں خوشحالی کا دور دورہ ہو سکتا ہے ـ ووٹ کا درست بر محل استعمال محفوظ باوقار قیادت کی صورت اسلام اور پاکستان کے ساتھ ساتھ آپ کے پرچم کی سربلندی کیلئے بھی ضروری ہے ـ ووٹ کی اہمیت کو سمجھئے ـ وقت اور ووٹ درست استعمال کر کے پاکستان کو تاریک راہوں سے نکال کر اجالے کی سمت کامیابی کی سمت سفر شروع کریں ـ تحریک انصاف کے ساتھ چلیں اپنے حقوق اور اپنی چھپی ہوئی قائدانہ صلاحیتوں کے ساتھ مستقبل کے وزیر اعظم اور صدر بننےکا حق پہچانیۓ ـ تحریک انصاف ووٹ کے ذریعے پاکستان کی تقدیر بدلنے کا نام ہم ملک بچانے نکلے ہیں آؤ ہمارے ساتھ چلو ہم شعور جگانے نکلے ہیں چلو ہمارے ساتھ چلو Related Posts B
|


Tweet This
Share on Facebook
Digg This
Save to delicious
Stumble it
RSS Feed










